نئی دہلی-11 مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی مایوس کن کارکردگی کے بعد پارٹی کے مزید لیڈروں نے بنیاد پرست اصلاحات اور’’ قیادت‘‘ میں تبدیلی کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب تک یہ مطالبات’ 23-G‘‘ ( 23 غیر مطمئن لیڈروں کا گروپ ) کے لیڈروں کی طرف سے کیا جارہا تھا جنہوں نے دو سال قبل اس بارے میں سونیا گاندھی کو خط لکھا تھا۔ مگر اب جمعرات کو آۓ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج میں پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں کانگریس کی زبردست شکست سمیت یوپی، اترا کھنڈ، منی پور اور گوا میں بھی کانگریس کی مایوس کن کارکردگی پر قائدین کانگریس کی لیڈرشپ پر ہی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ پورا زور لگانے کے بعد بھی ملک کی سب سے بڑی ریاست یوپی میں صرف دو سیٹیں ملنا، اتراکھنڈ ، گوا اورمنی پور میں بھی پارٹی اپنی کارکردگی سے اثر بنانے میں ناکام ہونے پر کانگریس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ۔مئی 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں جب پی ایم مودی اقتدار میں آۓ تو کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کی تعداد9 تھی اب حالت یہ ہے کہ پارٹی اس وقت صرف دو ریاستوں (راجستھان اور چھتیس گڑھ ) میں ہی برسراقتدار ہے۔ پارٹی 2014 سے اب تک 45 میں سے صرف 5 انتخابات میں جیت درج کرنے میں کامیاب رہی ہے۔جس کو دیکھتے ہوئے کانگریس کی ساکھ اور قیادت پر ایک بار پھر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ اور یہ سوالات باہر سے نہیں پارٹی کے اندر سے اٹھ رہے ہیں۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے کانگریس کی کارکردگی پر پارٹی رہنماؤں سے بات کی ہے، جس میں انہوں نے اندرونی کشمکش اور قیادت کی کمی پر سوالات اٹھاۓ ہیں۔کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اشارہ دیا تھا کہ پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ جلد ہی منعقد ہوگی جس میں مزید منصوبوں پر بات چیت کی جاۓ گی۔
پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی جیت کو دیکھ کر کچھ نو جوان لیڈر کہتے ہیں کہ پرانے اور تھکے ہوۓ لیڈروں کو نئے لوگوں کیلئے راستہ بنانے کی ضرورت ہے۔کانگریس کی شکست پر پارٹی کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ میں حیران ہوں، پارٹی کی شکست دیکھ کر میرا دل رو رہا ہے۔
غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم نے اپنی ساری زندگی اور جوانی پارٹی کو دی۔ مجھے یقین ہے کہ پارٹی کی قیادت ان تمام کمزوریوں اور خامیوں کا جائزہ لے گی جن کی نشاند ہی میں اور میرے ساتھی کچھ عرصے سے کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی سینئر لیڈرششی تھرور نے بھی قیادت میں اصلاحات کے مطالبے کو دہرایا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ جس کا بھی کانگریس پر بھروسہ ہے وہ انتخابی نتائج سے غمزدہ ہے۔ یہ ہندوستان کے نظریہ کومضبوط کرنے کا وقت ہے جس کیلئے کانگریس کھڑی ہے اور ملک کو ایک مثبت ایجنڈا دے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی تنظیمی قیادت کی اس انداز میں اصلاح کریں۔ جو ان خیالات کو زندہ کرے اور لوگوں کو متاثر کرے۔ ایک بات واضح ہے کہ کامیابی کیلئے تبد یلی ضروری ہے۔